User Rating:  / 0
PoorBest 

فقہاء احناف کی فقاہت کا ایک شاندار نمونہ 

مریض دیوبندیوں کے حکیم الامت اا شرف علی تھانوی لکھتے ہیں:  جس کا شوہر لاپتہ ہوگیا، معلوم نہیں کہ زندہ ہے یا مر گیا تو وہ عورت اپنا دوسرا نکاح نہیں کر سکتی بلکہ انتظار کرتی رہے کہ شاید آجاوے، جب انتظار کرتے کرتے اتنی مدّت گزر  جائے  کہ شوہر  کی عمر نوّے ۹۰ برس کی ہو جائے تو اب حکم لگا دینگے کہ وہ مر گیا ہو گا۔ سو اگر وہ  عورت ابھی جوان ہو  اور نکاح کرنا چاہے تو شوہر کی عمر نوّے برس کی ہونے کے بعد  عدت  پوری کر کے نکاح کر سکتی ہے۔(بہشتی زیور حصہ چہارم ص  ۱۸۳)

اس میں یہ جملہ بہت دلچسپ ہے کہ  ،‘ اگر وہ عورت  ابھی جوان ہو’۔ اس مسئلہ کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کریں   شادی کے وقت مرد کی عمر ۳۰ سال اور عورت کی عمر بھی ۳۰ سال تھی اور شادی کے اگلے دن ہی شوہر لاپتہ ہو گیا ۔ اب وہ عورت فقہ شریف کے مطابق نکاح نہیں کر سکتی جب تک شوہر کی عمر ۹۰ سال نہیں ہو جاتی ۔جب شوہر کی عمر ۹۰ سال ہو گی تو عورت کی عمر بھی اس وقت ۹۰ سال ہی ہو گی اور اب  اگر وہ جوان ہو (؟ْ) تو نیا نکاح کر سکتی ہے عدت گزارنے کے بعد۔ اب یہ  باجی حنیفہ کے ابّا جی ہی بتا سکتے ہیں کہ ۹۰ سال کی عمر میں وہ عورت  کونسے حکیم  کی  پھکّی کھا کے جوان  ہو گی؟؟؟ 

scroll back to top