User Rating:  / 1
PoorBest 

بالغ آدمي کے ليےعورت  کا دودھ پينا جائز ہے

علاج کے ليے عورت کے دودھ کي نسوار لينے يا دواء کے طور پر پينے ميں کوئي حرج نہيں ہے , بلاوجہ بالغ انسان عورت کا دودھ پيے تو اس ميں متأخرين کا اختلاف ہے (يعني متقدمين سب متفق تھے جواز پر ليکن متأخرين ميں کچھ جائز کہتے ہيں اور کچھ ناجائز)

فتاوى ہنديہ المعروف فتاوى عالمگيري  , ج5ص 435

ياد رہے کہ اللہ رب العالمين کي نازل شدہ شريعت ميں مدت رضاعت صرف اور صرف دو سال ہے , ملاحظہ فرمائيں:

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ( البقرة : 233 )

مائيں اپني اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائيں جن کا ارادہ دودھ پلانے کي مدت بالکل پوري کرنے کا ہو  اور جن کے بچے ہيں ان کے ذمہ ان کا روٹي کپڑا ہے جو مطابق دستور کے ہو ہر شخص اتني ہي تکليف ديا جاتا ہے جتني اس کي طاقت ہو ماں کو اس بچے کي وجہ سے يا باپ کو اس کي اولاد کي وجہ سے کوئي ضرر نہ پہنچايا جائے وارث پر بھي اسي جيسي ذمہ داري ہے، پھر اگر دونوں (يعني ماں باپ) اپني رضامندي سے باہمي مشورے سے دودھ چھڑانا چاہيں تو دونوں پر کچھ گناہ نہيں جب کہ تم ان کو مطابق دستور کے جو دينا ہو وہ ان کے حوالے کر دو اللہ تعالٰي سے ڈرتے رہو اور جانتے رہو کہ اللہ تعالٰي تمہارے اعمال کي ديکھ بھال کر رہا ہے۔

 

  

 

 

 

 

 

scroll back to top