User Rating:  / 1
PoorBest 

رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کو گالي دينے والے کا عہد(يعني امن معاہدہ) نہيں ٹوٹتا

جو (ذمي کافر)جزيہ دينے کا انکار کر دے يا کسي مسلمان عورت سے زنا کرے يا مسلمان کو قتل کردے يا رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کو گالي دے تو اسکا عہد نہيں ٹوٹتا ( معاذ اللہ ۔ نقل کفر کفر نہ باشد)

جي ہاں (رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کو) گالي دينے کے مسئلہ ميں مؤمن کا دل (ہمارے ) مخالف کي طرف مائل ہوتا ہے ليکن ہمارے ليے مذہب (يعني فقہ حنفيہ)کي اتباع (يعني تقليد) کرنا لازم ہے۔

بحر الرائق شرح کنز الدقائق از ابن نجيم مصري , ج5 ص 124,125

فقہ حنفيہ ميں رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کو گالي دينے والے يعني شاتم رسول صلى اللہ عليہ وسلم کے ليے کوئي سزا مقرر نہيں ہے بلکہ فقہ حنفيہ ميں شاتم رسول صلى اللہ عليہ وسلم کي جان و مال کي حفاظت کي جائے گي , اس بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہيں کہ احناف کا اسلام اور قرآن وحديث سے کتنا تعلق ہے !!!

ملاحظہ فرمائيں کہ فقہ حنفي کے محرر جنہيں محرر مذہب نعماني کا لقب حاصل ہے اور احناف ميں ابو حنيفہ ثاني کہلاتے ہيں کس ديدہ دليري کے ساتھ اعلان کرتے ہيں کہ : جي ہاں (رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کو) گالي دينے کے مسئلہ ميں مؤمن کا دل (ہمارے ) مخالف کي طرف مائل ہوتا ہے ليکن ہمارے ليے مذہب (يعني فقہ حنفيہ)کي اتباع (يعني تقليد) کرنا لازم ہے۔

انہيں دين اسلام اور قرآن پر ايمان کي کوئي فکر نہيں ہے , ايمان جاتا ہے جائے اسلام لٹتا ہے لٹے ليکن فقہ حنفي ہاتھ سے نہ جائے اسکو آنچ نہ آنے پائے !!! , انکے نزديک قرآن وسنت کا حکم ماننا لازم نہيں بلکہ اپني فقہ کي بات مانني لازم ہے ۔  إنا للہ  وإنا إليہ راجعون

دين اسلام ميں رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کي گستاخي کرنيوالے کي سزا  قتل ہے۔

جابر بن عبد الله رضي الله عنهما يقول قال رسول الله صلي الله عليه وسلم من لکعب بن الأشرف فإنه قد آذي الله ورسوله صلي الله عليه وسلم فقال محمد بن مسلمة أنا فأتاه فقال أردنا أن تسلفنا وسقا أو وسقين فقال ارهنوني نسائکم قالوا کيف نرهنک نسائنا وأنت أجمل العرب قال فارهنوني أبنائکم قالوا کيف نرهن أبنائنا فيسب أحدهم فيقال رهن بوسق أو وسقين هذا عار علينا ولکنا نرهنک اللأمة قال سفيان يعني السلاح فوعده أن يأتيه فقتلوه ثم أتوا النبي صلي الله عليه وسلم فأخبروه

رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا کوئي ہے جو کعب بن اشرف کا کام تمام کرے اور اس نے اللہ اور اس کے رسول صلي اللہ عليہ وسلم کو تکليف دي ہے محمد بن مسلمہ نے عرض کيا ميں تيار ہوں چنانچہ محمد بن مسلمہ اس کے پاس آئے اور ايک وسق يا دو وسق غلہ قرض لينے کا خيال ظاہر کيا تو اس نے کہا اپني بيويوں کو ميرے پاس گروي رکھ دو ان لوگوں نے کہا ہم کس طرح اپني بيويوں کو گروي رکھ سکتے ہيں جب کہ تو عرب ميں سب سے زيادہ حسين ہے اس نے کہا اپنے بيٹوں کو گروي رکھ دو ان لوگوں نے کہا ہم کس طرح اپنے بيٹوں کو گروي رکھ سکتے ہيں لوگ ان کو طعنہ ديں گے اور کہيں گے کہ ايک وسق يا دو وسق اناج کے عوض گروي رکھے گئے يہ ہمارے ليے شرم کي بات ہے ليکن ہم لامہ يعني اسلحہ تيرے پاس گروي رکھ سکتے ہيں چنانچہ اس سے دوبارہ آنے کا وعدہ کر گئے پھر اس کے پاس آئے تو اسے قتل کر ديا پھر وہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے (ماجرا) بيان کيا۔

صحيح بخاري كتاب الرهن باب رهن السلاح حـ 2510

 

 

 

 

 

 

 

 

scroll back to top