User Rating:  / 2
PoorBest 

حنفیوں کو گدھا اور خنزیر کہنا جائز ہے !

وہ امور جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے اللہ تعالى نے دین اسلام میں اسکی کچھ سزائیں دنیا میں بھی رکھی ہیں ۔ یا تو اسکی ایک خاص حد متعین فرما ئی ہے جنہیں حدود اللہ کہا جاتا ہے یا پھر اس سزا کو حاکم وقت یا قاضی کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے کہ جنہیں تعزیرات کہا جاتا ہے ۔اور جب انسانوں کے مابین کوئی معاملہ جائز ہوتا ہے تو اس پر کسی قسم کی کوئی سزا نہیں ہوتی نہ ہی حد لاگو ہوتی ہے اور نہ ہی تعزیری سزا دی جاسکتی ہے ۔

(یاد رہے کہ تعزیری سزا میں بھی اللہ تعالى نے کچھ قید رکھی ہے مثلا اگر کوڑے مارے جائیں تو دس سے زائد کوڑے تعزیرا نہیں مارے جاسکتے – صحیح بخاری)

دین اسلام کی رو سے اگر کوئی کسی کو گالی نکالے یا برا بھلا کہے تو اسے تعزیرا سزا دی جاسکتی ہے ۔ لیکن علمائے احناف کے ہاں کسی کو گالی دینے حتى کہ گدھا یا خنزیر تک کہہ دینے کی کوئی سزا نہیں ہے نہ ہی حد ہے اور نہ ہی تعزیر ہے ۔

ملاحظہ فرمائیں :

ولو قال يا حمار أو يا خنزير لم يعزر

[بداية المبتدي از برهان الدين مرغيناني   كتاب الحددود باب حد القذف  فصل في التعزير ج 1 ص 124)

اور اگر اس نے کہہ دیا " اے گدھے " یا " اے خنزیر " تو اسے تعزیر نہیں کی جائے گی۔

scroll back to top