User Rating:  / 1
PoorBest 

                                                                    قادیانی  حنفی  نماز  پڑھتے  ہیں

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حنفیت اور قادیا نیت

دیوبندی اکثر یہ باور کروانے کی کو شش کرتے ہیں  کہ  اہلحدیث اور قادیانی یک ہی ہیں ۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ مرزا غلا م احمد قادیانی کو ن تھا ؟

مشہور مرزا ئی منشی بر کت ہو شیار پوری

”مرزا صاحب کس فر قہ میں سے تھے؟“ کے زیر عنوان لکھتا ہے ۔”حضرت مرزا صاحب اہل سنت و الجماعت خاص کر حنفی المذ ہب تھے اس طائفہ ظاہرین علی الحق میں سے تھے“ ۔

( نورالدین 29 اگست 1912 ءکلام امیر المعروف ملفو ظات نو ر حصہ اول ص 54)

قادیا نیوں کے سر براہ مرزا ناصر احمد نے 10 دسمبر 1976ءمیں ربوہٰ میں سالانہ جلسہ میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے کہا ہم جو محسوس کرتے ہیں اور سچ سمجھتے ہیں اس کا اعلان کرتے رہیں گے ہمارا فقہ ‘فقہ حنفی ہے۔

(نوائے وقت ۱۱ دسمبر 1976ئ)

معروف مرزائی مصنف مرتضیٰ خاں حسن بی اے لکھتا ہے:

”ہم فقہ کو بھی مانتے ہیں اور فقہائے عظام کی دل سے قدر کرتے ہیں اور ان کے اجتہاد اور تفقہ کی قدر کرتے ہیں۔ ہم با لخصوص حضرت امام ابو حنیفہ کی فقہ پر عمل پیرا ہیں۔ اسی کی ہدیت ہمارے امام حضرت مرزا صاحب نے فر ما ئی ہے“۔

(مجددزماں بجواب دو نبی ص617)

محمد علی لاہوری مرزائی کی گواہی:

”حضرت صاحب ابتداءسے آخر زندگی تک علی الاعلان حنفی المذ ہب رہے ہیں“۔

(تحریک احمد یت حصہ اول ص ۱)

مرزا بشیر احمد یم اے لکھتا ہے:

”اصو لاً آپ ہمیشہ اپنے آپ کو حنفی ظاہر فرماتے تھے۔ آپ نے اپنے لئے کسی زمانہ میں بھی اہلحدیث کا نام پسند نہیں فرمایا “۔

( سیرت المہدی حصہ دوم ص 49)

مرزا بشیر احمد یم اے لکھتا ہے:

میاں عبد اللہ سنوری صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت صاحب کو کبھی رفع الیدین کرتے یا آمین بالجہر کہتے نہیں سنا اور نہ کبھی بسم اللہ بالجہر پڑ ھتے سنا “۔

(سیرت المہدی حصہ اول 162)

مرزا بشیر احمد یم اے لکھتا ہے :

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح مو عود علیہ السلام کو کبھی بھی کسی سے معانقہ کرتے نہیں دیکھا۔آپ مصافحہ کیا کرتے تھے اور حضرت صاحب کے مصافحہ کرنے کا طریقہ یسا تھا جو عام طور پر رائج ہے اہلحدیث والا مصافحہ نہیں کیا کرتے تھے“۔

(سیر ت المہدی حصہ سو م ص206)

ختم نبوت کے انکار پر دیوبندیوں اور قادیانیوں کا اتفاق ہے

مرزا قادیانی لکھتا ہے :

”اب بجز محمدی نبوت کے سب نبو تیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس اس بناءپر میں امتی ہوں اور نبی بھی“۔

(تجلیات الہیہ ص25)

مولانا قاسم نانو تو ی مدرسہ دیو بند کے بانیوں میں سے ہیں، اپنی کتاب تحذیر الناس ص28 پر لکھتے ہیں۔”اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہ آئے گا“

 

                                                                        

 

scroll back to top