User Rating:  / 100
PoorBest 

فرج سے خارج کی رطوبت امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نجس نہیں

مجھے یہ پوچھنا ہے کہ سیکس کے دوران میں اپنی بیوی کی فرج کو زبان لگاتا ہوں اور میری بیوی میری شرم گاہ کو چوستی ہے میرے آپ سے دو سوال ہیں؛ بیوی کی شرم گاہ میں انزال سے پہلے جو گیلا پن ہوتا ہے وہ کس مادے سے ہے؟ اور کیا وہ نجس ہے؟ میری شرم گاہ سے انزال سے پہلے جو پانی نکلتا ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ میاں بیوی کا ایک دوسرے کو ہر ممکن لزت اور تسکین دینے کے لئے یہ عمل بہت رواج پا چکا ہے۔ یہ حرام نہیں مکروہ ہے۔ اس کو حرام یا مکروہ کیسے کہا جا سکتا ہے۔جبکہ شریعت میں اس کے بارے میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہے اور جہاں تک علماء کے فتویٰ کی بات ہے تو کئی علماء اس کو جائز قرار دیتے ہیں
فتوی(م): 983=983-6/1432

فرج سے خارج کی رطوبت (گیلاپن) تو پاک ہے، فرج داخل کی رطوبت صاحبین ؒ کے نزدیک نجس ہے اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نجس نہیں بشرطیکہ اس میں خون وغیرہ ناپاک چیز نہ لگی ہو، رطوبة الفرج طاہرة خلافاً لہما (درمختار) مرد کی شرم گاہ سے جو پانی نکلے خواہ وہ مذی ہو یا ودی، بہرصورت ناپاک ہے، شوہر بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہ کو زبان لگانا اور چوسنا یہ مکروہ اور حیوانیت کا عمل ہے، اگرچہ اس عمل کے حرام ہونے پر قطعی حکم موجود نہیں لیکن فطرتِ سلیمہ کے خلاف ہونے سے تو انکار نہیں، جو علماء اس کو جائز قرار دیتے ہیں وہ کراہت کے ساتھ جائز کہتے ہیں یا بلاکراہت؟ اگر بلاکراہت جواز کے قائل ہیں تو اس پر دلیل کیا ہے؟ 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

Direct link for Fatwa : Click Here
Farj ke rutubat paak hai
scroll back to top