User Rating:  / 1
PoorBest 


احمد رضا بریلوی لکھتا ہے:
حضور اقدس ﷺ کا عام طور پر اُن کی نمازِ جنازہ نہ پڑھنا ہی دلیل روشن و واضح ہے کہ جنازہ غائب پر نماز نا ممکن تھی ورنہ ضرور پڑھتے کہ متقضی بکمال و فور موجود اور اور مانع مفقود لا جرم نہ پڑھنا قصداً باز رہنا تھا اور جس اَمر سے مصطفیٰ ﷺبے عذر ماانع بالقصداحتراز فرمائیں وہ ضرور امر شرعی و مشروع نہیں ہو سکتا۔ (غائبانہ نمازِ جنازہ جائز نہیں ص ۳۹)
جب ہم رضاخانی ٹولے کو سمجھاتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اسباب کی موجودگی کے باوجود جشن عید میلاد، تیجہ ، چالیسواں ، عرس وغیرہ سے بالقصد احتراز فرمایا ہے اس لیئے یہ سب ناجائز ہیں ،تو رضاخانی اسے ماننے کے لیئے تیار نہیں ہوتے۔ لیکن ان کے آلہ حضرت نے بھی اس اصول کو تسلیم کر لیا ہے کہ ’’جس امر سے مصطفیٰ ﷺبے عذر مانع بالقصداحتراز فرمائیں وہ ضرور امر شرعی و مشروع نہیں ہو سکتا’’۔ اس لیئے رضاخانی امت کو کم از کم اپنے آلہ حضرت کا اصول مان لینا چاہیئے اور ضد چھوڑ کر بدعات سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

scroll back to top