User Rating:  / 5
PoorBest 

 

وحیدالزماں کی تصنیفات اہل حدیث کی نظر میں


وحیدالزماں کی وہ کتابیں جن کی بنیاد پر آل تقلید اہل الحدیث کو مطعون کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کتابوں اور اس کے مصنف کی اہل حدیث کے ہاں کیا اہمیت وحیثیت ہے اسے واضح کیا جاتا ہے تاکہ اہل باطل کے چہرے سے مکرو فریب کا پردہ اتر جائے اور عوام الناس انہیں اپنے اصلی خبیث چہر ے کے ساتھ دیکھ سکیں۔

۱۔ محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ اپنی تحقیقی رسالے ماہنامہ الحدیث میں وحیدالزماں کی بدنام زمانہ تصنیفات نزل الابرار، ہدیۃ المہدی اور عرف الجادی وغیرہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ان مردود کتابوں کو اہل حدیث کے خلاف وہی شخص پیش کرتا ہے جو خود بڑا ظالم ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ،ص 30، شمارہ نمبر 11، اپریل 2005)

مزید ایک جگہ فرماتے ہیں: مختصر یہ کہ وحیدالزماں متروک الحدیث ہے اور اہل حدیث اس کے اقوال اور کتابوں سے بری ہیں۔(فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام جلد دوم، صفحہ 429)

اپنی کتا ب امین اوکاڑوی کا تعاقب میں بھی اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں: اہل حدیث کے خلاف وحیدالزماں ، نورالحسن اور نواب صدیق حسن خان کے حوالے پیش کرنا اصولاً غلط ہے۔ دوسرے یہ کہ اوکاڑوی صاحب کی ایک طویل عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ : ’نواب صدیق حسن خان، وحیدالزماں اور میر نورالحسن کی کتابیں، اہل حدیث علماء اور عوام سب کے نزدیک متروک ہیں ‘ دیکھئے تجلیات صفدر ج 1ص 621، مجموعہ رسائل ج3 ص 97)
بالاتفاق متروک کتابوں کے حوالے پیش کرنا کون سی دیوبندی عدالت کا انصاف ہے؟ ( امین اوکاڑوی کا تعاقب، صفحہ 49، 50)

زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی اس تصریح سے معلوم ہوا کہ وحیدالزماں کی کتابیں اہل حدیث کے ہاں متروک و مردود ہیں لہذا ان کتابوں کو اہل حدیث کے خلاف پیش کرنا دیانت و امانت کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ ویسے تو حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ کی وحیدالزماں کی کتابوں سے اس واضح برات کے بعد کسی اور حوالے کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن مزید علمائے اہل حدیث کے حوالے اس لئے پیش کئے جاتے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس مسئلہ میں حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ منفرد ہیں۔

۲۔ مولانا عبدالغفار محمدی حفظہ اللہ اپنی کتاب میں ہدیۃ المہدی غیر معتبر کتاب ہے کا عنوان قائم کرکے مقلدین کے بہتانات کا جواب دیتے ہوئے رقمطراز ہیں: میں نے پہلے کہہ دیا ہے کہ اہل حدیث اپنے اکابر کے کسی بھی مسئلے کو غلط کہنے کی جرات رکھتے ہیں دوسرا یہ کہ علامہ وحیدالزماں نے ھدیۃ المہدی لکھی اس سے علماء اہل حدیث متفق نہیں ہیں کیونکہ ان کا اپنا بیان ہے کہ..............اس وضاحت سے معلوم ہو گیا کہ یہ کتاب مذہب اہل حدیث کی ترجمان نہیں کیونکہ اس میں غلط باتیں موجود ہیں لہذا اس کتاب کا حوالہ ہمیں نہ دیا کریں۔(حنفیوں کے 350سوالات اور ان کے مدلل جوابات ، صفحہ 31)

ایک ممکنہ اعتراض: ہوسکتا ہے کہ کوئی یہ کہے کہ اس حوالے میں اہل حدیث عالم نے وحیدالزماں کو اپنا اکابر تسلیم کیا ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں عرض ہے کہ عبدالغفار محمدی حفظہ اللہ نے وحیدالزماں کو اپنا اکابر نہیں کہا بلکہ اہل حدیث کا ایک اصول بیان کیا ہے کہ صرف اہل حدیث میں یہ جرات ہے کہ وہ اپنے اکابرین کے کسی بھی غلط مسئلے کو غلط کہنے کی ہمت رکھتے ہیں اور یہ اصول اہل حدیث کے ہاں مسلم ہے۔چونکہ عبدالغفار محمدی حفظہ اللہ اپنی کتاب میں اس اصول کو پہلے بیان کر آئے ہیں جو کہ ان کے الفاظ ’میں نے پہلے کہہ دیا ہے‘ سے ظاہر ہے اس لئے مذکورہ حوالے میں اس سابقہ اصول کو نقل کرنے کے بعد اگلی عبارت ’دوسرا یہ کہ ‘ الفاظ سے شروع کرتے ہیں جو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ پہلی عبارت (جو کہ اصل میں اہل حدیث کا مسلم اصول ہے) میں اکابرکا لفظ دوسری عبار ت میں موجود وحیدالزماں سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ اس لئے اس حوالے کا یہ مطلب اخذ کرنا کہ وحیدالزماں کو عبدالغفار محمدی حفظہ اللہ نے اپنا اکابر کہا ہے بددیانتی ہے۔

اب آخر میں ایک فیصلہ کن حوالہ پیش خدمت ہے جس سے زیر بحث عبارت کا غلط مطلب اخذ کرنے کے تمام راستے مسدود ہوجاتے ہیں۔مولانا عبدالغفار محمدی نے کہیں بھی صراحتاً وحیدالزما ں کو اپنا عالم یا اکابر نہیں کہا ۔جبکہ اس کے بالکل برعکس انہوں نے صراحتاً کہا: وہ اہل حدیث نہیں تھا۔(حنفیوں کے 350سوالات اور ان کے مدلل جوابات ، صفحہ ٤٧١)
پس ثابت ہوا کہ جب عبدالغفار محمدی حفظہ اللہ کے نزدیک وحیدالزماں اہل حدیث نہیں تھا تو اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ان کی کسی عبارت کا یہ مطلب ہو کہ وحیدالزماں اہل حدیث کا اکابر تھا  !!!
کیا اہل حدیث کا اکابر غیر اہل حدیث بھی ہو سکتا ہے؟؟؟ !!!

۳۔ مولانا محمد داود ارشد حفظہ اللہ وحیدالزماں اور اس کی تصنیفات کے بارے میں اہل حدیث کا موقف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ان کے زاتی اجتہادات اور کتب فقہ مرتب کرنے کو علماء اہل حدیث نے ابتداء سے ہی اچھی نظر سے نہیں دیکھا.........چناچہ آخری تصانیف میں سے ، ھدیۃ المھدی میں ایسے ایسے عقائد انہوں نے بیان کئے ہیں جو محدثین کا مسلک قطعاً نہیں۔
تنبیہ: محدثین اور اہل حدیث کا مسلک ایک ہی ہے۔اہل حدیث محدثین کی عوام ہی کو کہا جاتا ہے۔

آگے چل کر محمد داود ارشد حفظہ اللہ پرائمری اسکول ماسٹر امین اوکاڑوی کا حوالہ نقل کرنے کے بعد اس پر تبصرہ فرماتے ہیں:ماسٹر امین کی یہ بات سو فیصد صحیح ہے ۔واقعی یہ کتب ہماری مسلمہ نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اہل حدیث ناشر نے وحیدالزماں کی اشاعت کے بعد ان کو شائع نہیں کیا ۔ان کو دیوبندی شائع کرتے ہیں یا بریلوی حضرات۔ اگر ہم ان پر مطمئن ہوتے تو ان کی کثرت سے اشاعت کرتے مگر ایسا ہر گز نہیں ہوا۔(تحفہ حنفیہ بجواب تحفہ اہل حدیث ، صفحہ 389 تا 391)

۴۔ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ وحیدالغات میں موجود وحیدالزماں کے غلط عقائد سے متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مگر اس کتاب کے بعض مقامات میں عقیدہ سلف سے انحراف پایا جاتا ہے جس سے ہر قاری کو متنبہ رہنا چاہیے۔(پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث کی خدمات حدیث، صفحہ 84)

۵۔ شیخ العرب و العجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ ایک معترض حنفی کے جواب میں وحیدالزماں کی کتابوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں کہ یہ اہل حدیث کی کتابیں نہیں ہیں لہذا اہل حدیث کے خلاف ان کاحوالہ پیش کرنا بھی درست نہیں ہے اور اہل حدیث کی کتابیں جنھیں اہل حدیث تسلیم کرتے ہیں قرآن اور حدیث ہیں اگر ان پر کسی معترض کو جرات ہے تو اعتراض کرے۔لکھتے ہیں :
پہلے عنوان قائم کرتے ہیں، جرات ہے تو..... اس کے بعد تحریر کرتے ہیں: اہلحدیث کو صاف پکار کر کہیں کہ اگر آپ ہماری فقہ کی کتابوں پر تنقید کریں گے تو ہم بھی تمہاری کتابوں یعنی قرآن اور حدیث پر تنقید کریں گے۔(مروجہ فقہ کی حقیقت، صفحہ 63)

نیز وحیدالزماں کی کتاب کے حوالے پر فرماتے ہیں: آپ نے ہمیں گھر کی صفائی کے لئے کہا ہے مگر ہمارے گھر کی کتابوں (قرآن و حدیث) میں کسی بھی مسلمان کو اعتراض کی بات نہیں ملے گی۔ باقی دوسری کتابیں نہ ہمارے پاس معتبر ہیں اور نہ سند اور نہ ہی حجت ہیں۔ اس لئے نہ ہی ان کتابوں کو ہماری طرف منسوب کیا جائے اور نہ ہی وہ ہمارے گھر کی کتابیں ہیں۔(مروجہ فقہ کی حقیقت، صفحہ 91)

بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی وحیدالزماں کی کتابوں سے برات کس قدر واضح ہے مزید ملاحظہ فرمائیں:
اس لئے نزل الابرار جماعت اہلحدیث کی کتاب نہیں ہوسکتی۔(صفحہ 110)
جوشخص شدت سے حنفیت کا حامی اور مسلک اہلحدیث کا مخالف ہو اس کی کتاب کوخالص مذہب اہلحدیث کی کتاب کہنا ہی غلطی ہے۔(صفحہ 11)
اس میں کتنی وضاحت کی گئی ہے کہ علماء اہلحدیث نواب صاحب کی کتابوں سے مطمئن نہ تھے.....اہلحدیث اس کی کتابوں کو قبول نہیں کرتے اس لحاظ سے آپ کا سوال بھی غلط ہوا۔(صفحہ 111)
مولانا صاحب ! اب تو آپ کو یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ نواب وحیدالزماں کے خیالات میں اگر چہ تبدیلی آچکی تھی لیکن اس کے باوجود اہلحدیث علماء کی اس کی تصنیفات کے بعد جو امیدیں اس سے وابستہ تھیں ختم ہوگئیں تھیں۔(صفحہ 112)
ان کی کتابوں کو اہلحدیثوں کی کتابیں کہنا بہت بڑا سنگین جرم ہے۔ (صفحہ 113)
مولانا صاحب! اب تو یقین آگیا کہ یہ آپ کا ہی ایک رکن ہے اور جن کتابوں پر آپ کو اعتراض ہے وہ آپ کے بھائی کی ہی کتابیں ہیں اس لئے کہ نواب وحیدالزماں کی حقیقت آنکھوں والوں کیلئے واضح کر دی گئی ہے۔(صفحہ 114)

یہ تمام حوالے بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی کتاب مروجہ فقہ کی حقیقت سے لئے گئے ہیں۔

۶۔ اہل حدیث کے ہاں وحیدالزماں کی تصنیفا ت کی کیا وقعت ہے اس بارے میں اصولی اور دو ٹوک بات کرتے ہوئے نوجوان محقق عالم مولانا عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں تک تعلق ہے اس سوال کا کہ وحیدالزماں کی کتب کی کیا حیثیت ہے تو اس سلسلے میں مسلک اہل حدیث بالکل واضح ہے کہ جس کی بات کتاب و سنت اور منہج سلف صالحین سے میل کھاتی ہو وہ قابل قبول ہے وگرنہ قابل رد ہے اور ہم اس سے نہ دوسروں پر حجت قائم کرتے ہیں اور نہ خود اپنے اوپر۔( ہفت روزہ حدیبیہ ، جلد 02، 01تا 15مارچ 2011)

نیز لغات الحدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: وحیدالزما ں صاحب کی ایک کتاب ہے ’وحیداللغات، یا ’لغات الحدیث‘ خواہ یہ کتنی ہی مقبول و مبسوط ہو مگر اس میں جو اہل حدیثوں پر تبراء کرنا، الزام تراشیاں، اپنے شیعی عقائد کی ترویج ، صحابہ کرام پر طعن اور اس طرح کی بے شمار غلطیاں ہیں اس کے بعد اسے مطلقاً درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔( ہفت روزہ حدیبیہ ، جلد 02، 01تا 15مارچ 2011)

اسی طرح ہدیۃ المہدی کے بارے میں رقم کرتے ہیں: جناب کی ایک کتاب ھدیۃ المھدی ہے جو حقیقتاً نزل الاابرار کی تلخیص ہے ......یہ کتاب حقیقت میں مروجہ فقہ حنفی کا چربہ و ملغوبہ ہے .....اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس کو آج تک نام نہاد اہل سنت والوں نے ہی شائع کیا ہے کسی اہل حدیث ادارے نے نہیں۔( ہفت روزہ حدیبیہ ، جلد 02، 01تا 15مارچ 2011)

 

علمائے اہل حدیث کے موقف پر علمائے سوء کی تائید



اہل باطل کے گروہ سے تعلق رکھنے والے نام نہاد علماء کس طرح علمائے اہل حدیث کے اس سچے اور کھرے موقف کی تائید کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

۱۔ دیوبندیوں کے کثیر الالقاب عالم امین صفدر اوکاڑوی لکھتے ہیں: نواب صدیق حسن خان، میاں نذیر حسین، نواب وحیدالزماں، میر نورالحسن، مولوی محمد حسین اور مولوی ثنا ء اللہ وغیرہ نے جو کتابیں لکھی ہیں، اگر چہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن و حدیث کے مسائل لکھے ہیں لیکن غیر مقلدین کے تمام فرقوں کے علماء اور عوام بالاتفاق ان کتابوں کو غلط قرار دے مسترد کر چکے ہیں بلکہ برملا تقریروں میں کہتے ہیں کہ ان کتابوں کو آگ لگا دو۔ (تحقیق مسئلہ تقلید، صفحہ 6)

یہی دیوبندیوں کے مناظر اسلام جناب امین اوکاڑوی صاحب جو کہ بلا خوف و خطر جھوٹ بولنے اور دغا دینے کی بد عادت سے متصف تھے اپنی ایک اور تصنیف میں جو تصنیف کم اور جھوٹ نامہ زیادہ ہے اپنی اس جھوٹ بولنے اور دغا دینے کی عادت کے برعکس سچ بولتے ہوئے لکھتے ہیں: نواب وحیدالزماں نے ہدیۃ المہدی ، نزل الابرار اور کنز الحقائق وغیرہ کتابیں لکھیں مگر ان کتابوں کا جو حشر ہوا وہ خدا کسی دشمن کی کتاب کا بھی نہ کرے۔نہ ہی غیر مقلد مدارس نے ان کو قبول کیا کہ ان میں سے کسی کتاب کو داخل نصاب کرلیتے نہ ہی غیرمقلد مفتیوں نے ان کو قبول کیا کہ اپنے فتاویٰ میں ان کو لیتے اور نہ ہی غیر مقلد عوام نے ان کو قبول کیا ۔(تجلیات صفدر ، جلد1، صفحہ 621)

اہل حدیث کے سخت ترین مخالف کی اس گواہی کے بعد بھی کیا کسی کو کوئی شک باقی رہتا ہے کہ اہل حدیث عوام اور علمائے اہل حدیث ان مردود کتابوں کا بالاتفاق رد کر چکے ہیں جن کے حوالے دے کر اہل باطل بغلیں بجا رہے ہیں؟! نیز دیوبندی مناظر اسلام امین اوکاڑوی کے اعتراف اور اہل حدیث کے حق میں گواہی کے باوجود بھی دیوبندیوں کا انہیں مردود کتابوں کو اہل حدیث کے خلاف تواتر سے پیش کرنا ظاہر کرتا ہے کہ امین اوکاڑوی خود ان کی اپنی دیوبندی جماعت کے نزدیک بھی جھوٹا و کذاب تھا۔

۲۔ ڈاکٹر علامہ خالد محمود دیوبندی اپنی تصنیف آثارالحدیث میں وحیدالزماں حیدرآبادی کا زکر کرتے ہوئے وحیدالزماں ہی کی زبانی نقل کرتے ہیں کہ ہدیۃ المہدی کو اہل حدیث عوام اور علماء نے رد کردیا تھا ۔ملاحظہ فرمائیں: مجھ کو میرے ایک دوست نے لکھا کہ جب سے تم نے کتاب ہدیۃ المہدی تالیف کی ہے تو اہلحدیث کا ایک بڑا گروپ .........تم سے بددل ہوگئے ہیں۔اور عامہ اہلحدیث کا اعتقاد تم سے جاتا رہا ہے۔(آثار الحدیث جلد دوم ، صفحہ 398)

مذکورہ بالا حوالے سے ثابت ہوا کہ وحیدالزماں کی کتابیں اہل حدیث کے نزدیک مردود اور غیر معتبر ہیں۔

۳۔ حقیقی دستاویز فی تائیدتاریخی دستاویزو فی رد تحقیقی دستاویز،نامی دیوبندی کتاب میں بھی جابجا اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ وحیدالزماں کی کتابیں اس وجہ سے قابل ردہیں کہ وہ شیعہ ہوگیا تھا اور اسکی کتابیں شیعہ نظریات ہی کی حامل ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
یہ شیعہ برادری کی چابک دستی ہے کہ انہوں نے ہدیۃ المہدی جیسی گمراہ کن کتاب کہ جس کے سرورق یعنی ٹائٹل پر شیعہ برادری کا مونوگرام صاحب الزمان صاف لفظوں میں لکھا ہوا ہے ۔ اسی طرح کی کئی کتب جو شیعہ مصنفوں نے رقم کیں وہ سنی برادری کے کھاتے میں ڈال دی گئی ہیں۔

( حقیقی دستاویز فی تائیدتاریخی دستاویزو فی رد تحقیقی دستاویز ، صفحہ 12)

جی ہاں یہ قابل اعتراض بلکہ قابل نفرت نظریہ شیعہ قلم کار نواب وحیدالزماں کا ہے۔( حقیقی دستاویز فی تائیدتاریخی دستاویزو فی رد تحقیقی دستاویز ، صفحہ 595)

ابوداود کا مترجم اور فوائد لکھنے والا وہی نواب وحیدالزماں ہے جس کا رفض ابلتی ہنڈیا کی طرٖح جوش لے رہاہے۔ ( حقیقی دستاویز فی تائیدتاریخی دستاویزو فی رد تحقیقی دستاویز ، صفحہ 632)

حوالے ہدیۃ المہدی وغیرہ جیسی بے ہودہ کتابوں سے دیے ہیں۔( حقیقی دستاویز فی تائیدتاریخی دستاویزو فی رد تحقیقی دستاویز ، صفحہ 14)

معلوم ہوا کہ مقلدین کو بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ نواب صدیق حسن خان، نواب وحید الزماں، میر نور الحسن وغیرہ کی کتابیں اہلحدیث

مسترد کر چکے ہیں لہٰذا ان حضرات کی کتابیں اہلحدیث کے خلاف پیش کرنا اصولاً غلط ہے۔


 Hidayatul Mahdi

 

 

 

 Amin Okarvi Majmooha Risalah

scroll back to top