User Rating:  / 1
PoorBest 

 

 

شیخ عبدالحق بنارسی ؒپر دیوبندی الزامات کا جائزہ

 

 

شیخ عبدالحق بنارسی ؒپر دیوبندی الزامات کا جائزہ

 

آلِ تقلید نے جہاں  عوام الناس   کو عقائد کے باب میں گمراہ کیا وہاں اپنے مخالفین سے بغض و عناد نے انہیں تاریخ سازی  سے بھی باز نہ رہنے دیا۔ اپنے تقلیدی جمود کو برقرار رکھنے کے لیئے  تاریخ کو مسخ کر کے بھولے بھالے  تقلیدی عوام کو خوش فہمیوں بلکہ غلط فہمیوں میں مبتلا کر دیا۔

اسی طرح کی ایک کاوش مولانا عبیداللہ سندھی نے  اپنی کتاب شاہ ولی اللہ اور انکی سیاسی تحریک میں دکھائی ہے۔

اپنے مسلکی تعصّب میں  شیخ عبدالحق بنارسی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں:

" امیر شہید نے ان کے رہنما کو  جو مولانا محمد اسماعیل اور امام شوکانی دونوں کا شاگرد اور زیدی شیعہ تھا ، اپنی جماعت سے نکلوا دیا۔"

( شاہ ولی اللہ  اور انکی سیاسی تحریک ص ۸۳)

 

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں : " وہ ہندوستانی  عالم جو کہ مذہباً زیدی شیعہ تھا اور امیر شہید نے  اسے اپنی جماعت سے نکلوا دیا تھا، وہ بھی مولانا ولایت علی کے ساتھ شامل ہو گیا۔ نواب صدیق حسن خان اسی استاد کے توسط سے امام شوکانی کے شاگرد ہیں۔"(ص ۱۰۳)

جواب:

ان ہر دو عبارات کا حاصل یہ ہے کہ

1) شیخ عبدالحق بنارسی زیدی شیعہ تھے۔

2) سیّد احمد شہید نے انہیں اپنی جماعت سے نکلوا دیا تھا۔

اس  الزامات کی حقیقت آگے تفصیل سے آ رہی ہے ان شاء اللہ۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے جس بے دریغی اور بے باکی سے علماء اہلحدیث کو شیعہ کہاہے اس کا ذکر کرتے ہوئے مولانا مسعود عالم ندوی لکھتے ہیں:

"عام جماعت اہل حدیث  کو زیدیت ، شیعیت، رفض اور مختلف القاب سے  اس بے دردی کے ساتھ نوازا گیا ہے  کہ حیرت ہوتی ہے اور رہ رہ کر تعجب ہوتا ہے۔۔۔ اور اسی لپیٹ میں  یمن کے سلفی عالم ا ور محدّث قاضی محمد بن علی شوکانی اور نجد کے مظلوم مصلح محمد بن عبدالوہاب  اور ان کے مّتبعین بھی آ گئے ہیں۔" (مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار و خیالات پر ایک نظر ص ۴۰۔۴۱)

شیخ عبدالحق بنارسیؒ پر زیدیت اور شیعیت کے الزام کا رد کرتے ہوئے مولانا مسعود عالم ندوی لکھتے ہیں:

" اہلحدیث عالموں کے جس رہنما کو  مولانا زیدی شیعہ کہتے ہیں، وہ شیخ عبدالحق بن فضل اللہ بنارسی مہاجر مکّی  (ف ذولحجہ ۱۲۸۹ھ)  ایک متبع سنّت سلفی عالم ہیں۔ ان پر زیدیت اور شیعت کا الزام عائد کرنا بڑا ظلم ہے۔مولانا ان کا ذکرِ خیر  مختلف جگہوں پر کیا ہے دو  موقعوں پر زیدی شیعہ،( ص ۱۹۵،۱۶۲) اور ایک مقام پر نواب صدیق حسن خا ن صاحب (ف ۱۳۰۷ھ)  کا استاذ بھی بتایا گیا ہے لیکن نام لینے سے احتراز  رہا ہے ۔ صرف ایک جگہ کتاب التمہید کے اقتباس میں ان کا نام آتا ہے۔" (مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار و خیالات پر ایک نظر ص ۷۶)

اس کے بعد وہی اقتباس جو ہم اوپر نقل کر آئے ہیں وہ پیش کر کے لکھتے ہیں:

" ہمیں نہیں معلوم کہ امیر شہید نے انہیں کب جماعت سے نکلوا دیا تھا، کیا اس کا کوئی مستند ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے؟

اب رہا  شیخ عبدالحق بن فضل اللہ پر زیدیّت و شیعیّت کا  الزام ، اس کی حیثیت ایک بہتان سے زیادہ نہیں۔"

(مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار و خیالات پر ایک نظر ص ۷۶)

امام خان نوشروی  لکھتے ہیں:

"عبدالحق بنارسی نسباً  عثمانی والد کا نام مولوی فضل اللہ۔۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی کے حلقہ درس میں شہید علیہ الرحمۃ کے شریک سبق ہو کرحدیث  پڑھ رہے ہیں، ۔۔ دہلی سے تکمیل کے بعد  یمن جا کر امام محمد بن( علی) قاضی  شوکان سے حدیث پڑھ رہے ہیں، سند و اجازہ بنفسہ امام شوکانی سے حاصل ہے۔" ( تراجم علمائے حدیث ہند ج1 ص 344)

مولانا  نذیر احمد رحمانی  نے بھی عبیداللہ سندھی کے اس الزام کی تردید کی ہے لکھتے ہیں:

"مولانا سندھی کا ایک افسوسناک بہتان: مولانا عبیداللہ سندھی نے شیخ عبدالحق  محدث بنارسی کے مسلک کی بابت  یہ نہایت افسوسناک بہتان باندھا ہے کہ وہ مذہباً زیدی شیعہ تھے  اور امیر شہید سیّد احمد بریلوی نے انہیں اپنی جماعت سے نکلوا دیا تھا۔"(اہلحدیث اور سیاست ص101)

اس کے علاوہ  دیگر کئی کتب میں  شیخ عبدالحق محّدث  بنارسی کے حالات ملتے ہیں۔

تاریخ اہل حدیث  مصنف  ڈاکٹر بہاؤالدین (ج1 ص 656۔658)

جماعت مجاہدین مصنف مولانا غلام رسول مہر ( ص 284)

امام شوکانی مصنف عطاء اللہ حنیف بھوجیانی

بر صغیر پاک و ہند کے چند تاریخی حقائق (ص2 11۔ 125) وغیرہ ۔۔

اس کے علاوہ   مقلدین میں سے جناب عبدالحلیم چشتی  (حیات وحید الزماں ص 80)اور مولوی رحمان علی  نے  (تذکرہ علمائے ہند ص 110، فارسی طبع نولکشور لکھنؤ) بھی شیخ عبدالحق کا ذکر کیا ہےاور بعض حالات بیان کیئے ہیں ، لیکن کسی نے بھی  آپکے شیعہ یا زیدی  ہونے  کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

عبدالحلیم چشتی لکھتے ہیں:

"عبدالحق بن فضل اللہ نام ہے  آپ کے والد کی بود و باش چونکہ بنارس میں تھی اس لیے بنارسی  کہلاتے ہیں اور ولادت ۱۲۰۶ھ/۱۷۸۱ء  میں قصبہء نیوتن ضلع اناؤ میں ہوئی۔اسی بناء پر نیتنوی سے بھی مشہور ہوئے۔بچپن ہی میں حدیث سے لگاؤ پیدا ہو گیا اور اس کی تحصیل کے لیئے سفر کی صعوبتیں برداشت کیں، دہلی جا کر شاہ اسماعیل شہیدؒ کے ساتھ شاہ عبدالقادررؒ اور شاہ عبدالعزیز ؒسے حدیث پڑھی۔ سیّد احمد شہیدؒ کی معیت میں  حج ادا کیا۔ ۱۲۳۸ھ/۱۸۲۲ء میں صنعاء ، یمن چلے گئے اور قاضی شوکانی سے حدیث کی سند لے کر ہندوستان آئے، ملا عابد سندھی مدنی اور عبداللہ بن محمد اسماعیل الامیر سے بھی روایتِ حدیث کی اجازت ہے۔سنّت کے متبع اور توحید کے بہت دلدادہ تھے۔۔۔" ( حیاتِ وحید الزماں ص 80)

مولانا عبید اللہ سندھی  کے  اس الزام کا رد کرتے ہوئے تنزیل الصدیقی  لکھتے ہیں:

"شیخ عبدالحق بنارسی  یمن کے محدث و فقیہ محمد بن علی شوکانی  کے شاگرد تھے اور مولانا عبیداللہ سندھی، امام شوکانی کو بھی زیدی شیعہ سمجھتے ہیں اسی لیئے ان کے تلمیذِ خاص شیخ عبدالحق بنارسی پر زیدیت کا الزام لگایا ہے  جبکہ امام شوکانی بھی متبع سنّت اہل حدیث عالمِ دین  ہیں ان پر بھی زیدیت کا الزام سراسر بہتان ہے۔" (برصغیر پاک و ہند کے چند تاریخی حقائق ص 112۔113)

اسی سے ملتے جلتے بعض اعتراضات  متعدد دیوبندی حضرات نے  مکھی مکھی پہ مارتےہوئے  نقل کر رکھے ہیں۔

 

غیر مقلد ین چھوٹے رافضی ہیں؟

 

اہل حدیث سے عوام الناس کو بدظن کرنے کے لیئے مقلدین  نے ایک وطیرہ یہ اپنا یا کہ اہل حدیث کو شیعہ اور رافضی مشہور کیا جائے اس کے پیچھے ان کی سوچ یہ تھی کہ اہل سنّت میں روافض کے خلاف پہلے ہی بہت نفرت اور عداوت پائی جاتی ہے تو کیوں نہ اہل حدیث کو رافضی مشہور کر دیا جائے۔

امین  صفدر اوکاڑوی "غیر مقلدین چھوٹے رافضی ہیں"  کی سرخی قائم کر کے لکھتا ہے: "سید احمد شہید بریلوی کے قافلہ میں مشہور تھا کہ غیر مقلد چھوٹے رافضی ہوتے ہیں۔ (قصص اکابر ص 26)" (تجلیاتِ صفدر ج 3ص  629)

لیکن اس کی وجہ نہیں بتائی یا شاید اسے معلوم ہی نہیں تھی، چلیں ہم بتلائے دیتے ہیں۔۔

در اصل بات یہ تھی کہ اپنی نوایجاد شدہ تقلیدی دیوبندی تحریک کو تقویت دینے اور لوگوں کو تقلیدی دیوبندی جکڑ بندیوں میں  جکڑنے کے لیئے  عوام الناس میں یہ بات پوری پلاننگ کے ساتھ مشہور کی گئی تھی   کہ جو بھی فقہ حنفی اور تصوّف کا انکار کرے گا وہ شیعہ اور رافضی ہے خود مولانا عبیداللہ سندھی اس کا  اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

" دیوبندی نظام نے پچاس سال میں جس طرح  کامیابی حاصل کی ہے   وہ اس تجدید کی صداقت کے لیئے شاہد عدل ہے۔

اس نظام کو پختہ بنانے کے لیئے عوام کو بتلایا گیا کہ جس قدر رہنما فقہ حنفی اور ہندوستانی  تصّوف چھوڑنے کی دعوت دیتے ہیں، وہ حقیقت میں شیعہ پارٹی کا کام کرتے ہیں۔ اس زمانے میں حزب ولی اللہ کا متوسط طبقہ ہر ایسے انسان کو جو فقہ (حنفی) اور تصّوف کا انکار کرتا ، چھوٹا رافضی کہتا رہا ہے۔"

(شاہ ولی اللہ اوران  کی سیاسی تحریک ص 178۔180)

لیکن ہم کہتے ہیں  مولانا عبید اللہ سندھی کا یہ کہنا " اس زمانے میں حزب ولی اللہ کا متوسط طبقہ ہر ایسے انسان کو جو فقہ (حنفی) اور تصّوف کا انکار کرتا ، چھوٹا رافضی کہتا رہا ہے " کسی افسانے سے زیادہ نہیں اگر بالفرض اس بات کو صحیح بھی مان لیا جائے  تو   اس سے بھی صرف یہی  مقصود تھا کہ کہ نو ایجاد شدہ دیوبندی مذہب کو تقویت دی جا سکے ، اس سے  کسی کا شیعہ یا رافضی ہونا  کہاں ثابت ہوتا ہے، جس پر مقلد اتنی بغلیں بجاتے پھر رہے ہیں؟

دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:

"پھر فرمایا کہ بعض غیر مقلدین کہتے ہیں کہ ہمیں ان سے نفرت ہے  بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ہم خود ایک غیر مقلد کے متعقد اور مقلد ہیں، کیونکہ امام اعظم ابوحنیفہ کا غیر مقلد ہونا یقینی ہے۔"( مجالسِ حکیم الامت ص 345)

اگر  غیر مقلد  چھوٹے رافضی ہوتے ہیں تو   مقلدین کا  اپنے "امام اعظم" کے متعلق کیا خیال ہے؟

 

" کشف الحجاب" کی حقیقت:

 

مولوی الیاس گھمن  دیوبندی لکھتا ہے:

قاری عبدالرحمٰن پانی پتی مرحوم  شاگردِ حضرت شاہ اسحاق صاحب لکھتے ہیں:

"مولوی  عبدالحق  صاحب بنارسی  نے ہزار  ہا  بنی آدم کو یا آدمیو ں کو عمل بالحدیث   کے پردے میں قیدِ مذہب سے نکالا  اور مولوی صاحب  نے ہمارے سامنے کہا  عائشہ ؓ  حضرت علیؓ سے لڑ کر  مرتد ہوئی  اگر بے  توبہ  مری تو  کافر مری ( والعیاذباللہ)  اور صحابہؓ سے ہمارا علم بڑا ہے ، صحابہ کا علم ہم سے کم تھا،  بعد تھوڑے عرصہ کے مولوی عبدالحق صاحب ، مولوی گلشن علی صاحب (جو مذہباً شیعہ تھے) کے پاس  جو دیوان راجہ بنارس کے تھے ، گئے  اور کہا کہ میں اب ظاہراً  شیعہ ہوں اور میں نے عمل بالحدیث کے پردے میں  وہ کام کیا  کہ عبداللہ بن سبا سے  نہ بنا  تھا ،  ہزارہا اہل سنت کو قید مذہب سے نکال دیا ہے اب انکا شیعہ ہونا بہت آسان ہے چنانچہ مولوی گلشن علی نے تیس روپیہ ماہوار پر  انکی نوکری کروادی۔ (کشف الحجاب ص بحوالہ21)"

(فرقہ اہلحدیث پاک و ہند کا تحقیقی جائزہ ص 31۔ 32)

اس عبارت کا متن ہی اس ساری کہانی کے وضعی ہونے کی دلیل ہے  بہر حال ہم پھر  بھی عرض کرتے ہیں کہ گھمن  صاحب نے  جس کتاب "کشف الحجاب " کا  حوالہ  دیا ہے  اس کا  مصنف  متعصب حنفی ( دیوبندی) تھا ۔ اس کے مفصل حالات تو دیکھنے کا موقع نہیں ملا البتہ ارواحِ ثلاثہ میں  اس سے مروی روایات موجود ہیں  ( دیکھئے ارواح ثلاثہ حکایت نمبر: 20۔54۔96۔، ص 32، 71، 115،377)۔

 

قاری عبدالرحمٰن پانی پتی اور تکفیر ِ اہل حدیث:

 

فضل الرحمٰن دھرم کوٹی دیوبندی نے لکھا :"بقول  قاری عبدالرحمٰن محدث  ان ( اہل حدیث) کا کفر شیعہ سے بڑھا ہوا ہے ۔۔ قاری عبدالرحمٰن صاحب کے الفاظ یہ ہیں:  ان موحدوں کے اسلام میں کلا م ہے بطور تنزل ان کو شیعہ کہنا چاہیئے۔۔ "( اہل حدیث یا شیعہ؟ ص 14)

معلوم ہوا کہ یہ قاری عبدالرحمٰن  دیوبندی اکابر تھا جس نے  اہل حدیث  کے خلاف دل کھول کر تبرا کیا ہے اور اہل حدیث کی تکفیر بھی کرتا تھا۔

 اس لیئے اس تقلیدی دیوبندی  کی" کشف الحجاب " یا کوئی اور کتاب اہل حدیث کے خلاف قطعاً  پیش نہیں کی جا سکتی۔مخالفین کی ایسی باتیں باطل اور مردُود ہوتی  ہیں جن کی علمی میدان میں کوئی حیثیت نہیں۔

عبدالحکیم شرف قاادری بریلوی لکھتا  ہے:"۱۳۰۴ھ/ ۱۸۸۷ء میں مولوی رشید احمد گنگوہی کی تالیف  "براہینِ قاطعہ"  مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کے نام سے شائع ہوئی۔۔ اس میں بہت سی غلط باتوں کے علاوہ یہ بھی درج ہے کہ  

"شیطان و ملک والموت کا حال دیکھ کر   علمِ محیط فخڑِ عالم کو  خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض  قیاس فاسدہ ثابت کرنا  شرک نہیں تو کون سا ایمان  کا حصہ ہے، شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی، فخرِ عالم کی وسعت  علم کی کون سی نص قطعی ہے۔"(براہین قاطعہ ص ۵۱)"

(مقدمہ حسام الحرمین ص5)

آگے  لکھتا ہے:" ۱۳۱۹ھ/ ۱۹۰۱ء  میں مولوی اشرف علی تھانوی کا رسالہ "حفظ الایمان" منظر عام پر آیا جس میں بڑے جارحانہ اندا ز میں لکھا ہے کہ:" آپ کی ذاتِ مقدسہ  پر علم غیب  کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو  دریادت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کیا کیا تخصیص  ہے، ایسا علمِ غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون  بلکہ جمیع حیوانات و بہاتم کے لیئے بھی حاصل ہے۔"(حفظ الایمان ص۸) "(مقدمہ حسام الحرمین ص6)

اسی پر تبصرہ کرتے ہوئےلکھتا ہے :"عبارات مذکورہ کے الفاظ موہمِ تحقیر نہیں  بلکہ کھلم کھلا گستاخانہ ہیں، ان کا قائل کیوں کافر نہ ہو گا۔"

(مقدمہ حسام الحرمین ص6)

کیا  دیوبندی حضرات  اپنے حنفی بریلوی بھائیوں کے ان الزامات کو تسلیم کرنے کے لیئے تیار ہیں؟

اگر ہم کسی بریلوی کےخلاف دیوبندی کی کتاب پیش کریں یا    دیوبندیوں کے خلاف بریلویوں کی کتابیں پیش کرنا شروع کر دیں تو   دونوں اسے قطعاً قبول نہیں کریں گے بالکل اسی طرح  قاری عبدالرحمٰن پانی پتی حنفی تقلیدی یا کسی اورغیر اہل حدیث   کی کتاب  بھی اہل حدیث  کے خلاف  پیش کرنا جہالت اور حماقت  کے سوا کچھ نہیں اوراس  کے  شیخ عبدالحق بنارسی پر الزامات  سراسر بہتان ہیں   جس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا جا سکتا۔

اگر ایسی کوئی بات موجود تھی تو  شیخ  بنارسی کی  کسی تصنیف سے پیش کرتے لیکن  مقلدین ایسی کوئی عبارت شیخ کی کتب سے نہیں دکھا سکتے ان شاء اللہ۔

 

نواب صدیق حسن خان  کا ادھورا حوالہ:

 

دیوبندی مضمون نگار نے لکھا :" نواب صدیق حسن غیر مقلد لکھتا ہے کہ عبدالحق بنارسی کی عمر کے درمیانی حصہ میں اسکے عقائد میں تزلزل اور اہل تشیع کی طرف اسکا رجحان بڑا مشہور ہے (سلسلۃ العسجد)"

ہم کہتے ہیں کہ دیوبندی نے   نواب صدیق حسن خان کی عبارت نقل کرنے مین خیانت سے کام لیا ہے  اور ادھوری عبارت پیش کر کے  اپنی مرضی کا مطلب اخذ کرنے کی کوشش کی ہے۔

جناب تنزیل الصدیقی  اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

"نواب صاھب اپنے شیخ حدیث شیخ عبدالحق بنارسی سے متعلق لکھتے ہیں:

"وانتقال شیخ عبدالحق بن فضل اللہ  محمدری در 1287 ہجری  بمقام منیٰ در موسم حج بعد رجوع از عرفات و مزدلفہ اتفاق اقتادہ پس انچہ در اواسط عمر بعض تزلزل در عقائد ایشاں  ومیل بسوی تشیع  و جز آن معروف ست در آخر عمر ازان انابت نمودہ اقرار صریح بمذہب اہل سنت  وجماعت کردہ بر طریقہ اتباع ازیں خاکدان بعالم جاوداں رحلت کردند و انما الاعمال بالخواتیم و ایں قسم نقل بمذاہب وتفرد ببعض اقوال براہ خطای اجتہادی  از جمعی از اکابر سلف از فقہاء وغیرہم نیز منقول ست و باصلاح اصل و صحت ثل و استقامت و حسن خاتمہ عافیت عاقبہ ان شاء اللہ تعالیٰ مغفور و متجاوز عنہ باشد وفضل اللہ و اسع۔( سلسلة العسجد ص36)

نواب صاحب کی تحریر سے  جو ثابت ہوتا ہے وہ حسبِ ذیل ہے:

1) شیخ عبدالحق اپنی عمر کے درمیانی عرصے  میں بعض مسائل میں تشیع کی طرف مائل ہو گئے تھے۔

2)اپنی زنندگی کے آخری  ایام میں جن مسائل میں ان اکا رجحان تشیع کی طرف ہوا تھا اس سے رجوع فرما لیا تھا اور اہل سنت والجماعت کے عقیدہ و مسلک پر مستحکم ہو گئے تھے۔

3) ان کا یہ تفرد خطائے اجتہادی کی قبیل سے تھا۔" ( برصغیر پاک و ہند کے چند تاریخی حقائق ص: 114)

نواب صاحب  نے بالکل واضح الفاظ میں لکھا ہے  جن بعض مسائل میں شیخ بنارسی کا رجحان تشیع کی طرف ہوا تھا ان سے بھی آخر کار رجوع فرما کر مذہب اہل سنّت والجماعت  پر استقامت اختیار فرما لی تھی، کیا بعض مسائل میں  تشیع کی طرف رجحان ہونے سے کوئی شخص  شیعہ  اور رافضی ہو جاتا ہے   جبکہ  ان سائل سے بھی بالآخر رجوع کر لیا ہو ؟ ہرگز نہیں۔

 

"تنبیہ الضالین  " کی عبارت:

 

" سو بانی مبانی اس فرقۂ  نواحداث کا  عبدالحق ہے  جو چند روز سے بنارس میں رہتا ہے اور امیر المومنین نے ایسی ہی حرکات ناشائستہ کے باعث اس کو اپنی جماعت سے نکا ل دیا   اور علماء حرمین معظمین  نے اس کے قتل  کا فتویٰ لکھا مگر کسی طرح بھاگ کر وہاں سے  بچ نکلا۔(تنبیہ الضالین ص3)"

 ( الکلام المفید ص 136، فرقہ اہلحدیث پاک و ہند کا تحقیقی جائزہ ص 31،اہل حدیث یا شیعہ؟ ص 7، تجلیاتِ صفدر ج3 ص 633)

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی  اس  کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

"تاہم  افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ  مولانا سندھی نے  اس رسالے(تنبیہ الضالین)  سے استدلال کرتے ہوئے  تحقیق اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیئے اور ان ہی یہ ان کے لیئے کسی مضبوط دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اوّلاًً تو اس کا مرتب ہی گمنام ہے۔ ثانیاً اس کی تائید کسی دوسرے ماخذ سے نہیں ہوتی۔ ثالثاً اس کے وضع ہونے کی دلیل خود اسی میں موجود ہے مولانا محمد علی رام پوری کا اہل حدیث ہونا قطعاً  محتاج ثبوت نہیں۔

اس کتاب میں واضعین نے ان کی تحریر ردّ تقلید میں وضع کر ڈالی۔ جبکہ عمل بالحدیث میں انہیں علاقہ دکن میں جن آلائم و  مصائب  کا سامنا کرنا پڑا اس کی تفصیل مولانا محمد کوکن عمری نے اپنی کتاب "خانوادہ قاضی  بدر الدولہ " میں رقم کی ہے اور جس کے حوالے  سے مولانا نذیر  احمد رحمانی نے  اپنی کتاب " اہل حدیث اور سیاست " میں مولانا محمد علی رام پوری کے حالات میں لکھے ہیں۔"

(برصغیر پاک و ہند کے چند تاریخی حقائق ص: 116)

مزید لکھتے ہیں: " واقعہ یہ ہے کہ "تنبیہ الضالین " ایک جعلی کتاب ہے جس کے مندرجات ناقابلِ تسلیم ہیں۔ مسلکی عصبیت کی خاطر اسے تبصرہ و تنقید سے بالاتر سمجھنا اور بات ہے لیکن ایک دیانت دار مؤرخ اور سجائی کے متلاشی محقق کے لیئے اسے بطور سند پیش کرنا ناممکن ہے۔"

(برصغیر پاک و ہند کے چند تاریخی حقائق ص: 118)

 

کیا  سیّد احمد شہید نے شیخ عبدالحق بنارسی ؒکو اپنی جماعت سے نکال دیا تھا؟

 

تنزیل الصدیقی الحسینی آگے چل کر لکھتے ہیں:

" یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ   تردیدِ اہل حدیثیت کے شوق میں  من چاہے الزامات  کو تاریخ کا حصّہ بنانا  اور حقیقت کو مسخ کرنے کے لیئے نت نئی روایات وضع کر لینا مخالفین کا وطیرہ رہا ہے۔

"تنبیہ الضالین" میں لکھا ہے کہ " علماء حرمین معظمین  نے اس( عبدالحق ) کے قتل  کا فتویٰ لکھا مگر کسی طرح بھاگ کر وہاں سے  بچ نکلا۔"

شیخ عبدالحق نے  اپنی زندگی میں سات مرتبہ فریضہ حج کی سعادت حاصل کی تھی۔ سیّد احمد شہید رحمہ اللہ  کے ساتھ ان  کے ساتھ دوسرا حج تھا گویا اس کے بعد انہوں نے پانچ مرتبہ  فریضہ حج ادا کیا۔حتیٰ کہ اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد  بھی منیٰ کے مقام پر 6 ذی الحجہ 1287ھ میں کی۔ کیا یہ ممکن ہو سکتا  تھا کہ ان پر قتل کا فتویٰ بھی ہو، حکومتِ مکہ سے بھاگ کر انہوں نے اپنی جان بچائی ہو لیکن پانچ مرتبہ دوبارہ اسی دیار یں جائیں۔

شیخ الکل  سیّد نذیر حسین کے ساتھ" برادرانِ یوسف "نے دیارِ کعبۃ اللہ میں کیا سلوک کیا تھا؟ کیا ان کی نگاہیں  شیخ عبدالحق بنارسی  کو معاف کر سکتی تھیں؟ " (برصغیر پاک و ہند کے چند تاریخی حقائق ص: 117)

خلاصہ بحث یہ کہ شیخ عبدالحق بنارسی رحمہ اللہ پر مولانا عبیداللہ سندھی اور دیگر مقلدین  عبدالرحمٰن پانی پتی وغیرہ کے رفض و تشیع کے الزامات بالکل بے بنیاد اور سراسر بہتان ہیں کیونکہ شیخ عبدالحق بنارسی ایک متبع سنّت   اہل حدیث / سلفی عالم و محدّث تھے۔

تحقیق : صالح حسن سلفی

scroll back to top